امریکہ میں نیویارک کے جان ایف کینیڈی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر لینڈنگ سے قبل جیٹ بلیو کی ایک مسافر پرواز مبینہ طور پر ڈرون سے ٹکرا گئی جس کے بعد فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی فیڈرل ایوی ایشن نے کہا ہے کہ یہ واقعہ پیر کے روز اس وقت پیش آیا جب لاس ویگاس سے آنے والا ایئربس اے 321 طیارہ لینڈنگ کی تیاری کر رہا تھا۔ادارے کا کہنا ہے کہ پائلٹ نے تقریباً 3 ہزار فٹ کی بلندی پر اطلاع دی کہ طیارہ ممکنہ طور پر ایک ڈرون سے ٹکرایا ہے۔ایئرلائن کے مطابق طیارہ بحفاظت رن وے پر اترا، تمام مسافر معمول کے مطابق اتر گئے اور بعد ازاں طیارے کو معائنے کے لیے سروس سے ہٹا دیا گیا۔ ابتدائی جانچ میں نہ تو کسی نقصان کے آثار ملے اور نہ ہی تصادم کے واضح شواہد سامنے آئے۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ہوائی اڈوں کے قریب ڈرون اڑانا انتہائی خطرناک ہے، جبکہ ایف اے اے کے مطابق ہر ماہ ایئرپورٹس کے اطراف ڈرون دیکھے جانے کی 100 سے زائد رپورٹس موصول ہوتی ہیں۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ غیر قانونی طور پر ڈرون اڑانے والوں کو بھاری جرمانے یا قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔چند روز قبل بھی یونائیٹڈ ایئرلائنز کی ایک پرواز نیوارک ایئرپورٹ کے قریب ڈرون سے متعلق ایک اور واقعے کا شکار ہوئی تھی، جس کے بعد امریکی حکام نے ہوائی اڈوں کے اطراف غیر قانونی ڈرون پروازوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔