فورڈ نے اعتراف کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت پر انحصار کرنے کی حکمت عملی ناکام ہونے کے بعد اسے سینکڑوں انسانی ملازمین کو دوبارہ بھرتی کرنا پڑگیا. امریکی آٹو موبائل کمپنی فورڈ نے اعتراف کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت گاڑیوں کے معیار کی جانچ میں انسانی ماہرین جیسی کارکردگی دکھانے میں ناکام رہی جس کے بعد کمپنی نے 300 سے زائد تجربہ کار انجینئرز اور کوالٹی انسپکٹرز کو دوبارہ ملازمت پر رکھ لیا ہے۔بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق فورڈ نے گزشتہ چند برسوں میں اپنے مختلف شعبوں، خصوصاً گاڑیوں کے معیار کی جانچ کے عمل میں مصنوعی ذہانت کا استعمال بڑھایا تھا۔ کمپنی کو امید تھی کہ اس ٹیکنالوجی سے اخراجات کم ہوں گے اور کام کی رفتار اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوگا تاہم عملی نتائج توقعات کے مطابق نہیں نکلے۔ کمپنی نے تسلیم کیا کہ پیچیدہ مسائل سے نمٹنے میں اے آئی انسانی تجربے اور باریک بینی پر مبنی فیصلے کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔فورڈ کے نائب صدر کا کہناتھا کہ خودکار نظام اور اے آئی ٹولز میں وہ مہارت اور عملی تجربہ موجود نہیں تھا جو سینئر تکنیکی ماہرین کے پاس تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی تجربہ کار ملازمین کمپنی چھوڑ گئے تھے اور ان کا قیمتی علم اے آئی سسٹمز کو منتقل نہیں کیا جا سکا.فورڈ نے اپنی پریس ریلیز میں کہا کہ اعلیٰ معیار حاصل کرنے کے لیے کمپنی کو بڑے پیمانے پر باصلاحیت افراد کی دوبارہ خدمات حاصل کرنا پڑیں۔ اس مقصد کے لیے انجینئرنگ، سپلائی چین اور مینوفیکچرنگ کے سینئر عہدیداروں میں تبدیلیاں کی گئیں جبکہ تقریباً 300 ایسے تجربہ کار انجینئرز کو دوبارہ بھرتی کیا گیا جو کئی دہائیوں کے ڈیزائن اور انجینئرنگ کے تجربے کے حامل ہیں۔