پاکستان میں ہیٹ ویوز سے غذائی تحفظ کو نئے خطرات لاحق

موسمیاتی تبدیلیوں اور اثرات پر نظررکھنے والے ادارے جرمن واچ کے مطابق پاکستان دنیا کے ان ٹاپ 5 ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے شدید ترین اثرات بھگت رہے ہیں۔ شمالی علاقوں میں پگھلتے گلیشیئر، میدانی علاقوں میں شدید گرمی، بے ترتیب مون سون بارشیں اوردوسری طرف زیر زمین پانی میں کمی اور تیزی سے کم ہوتے آبی ذخائرایک ایسے خطرے کی تصویر پیش کر رہے ہیں جو ہر گزرتے سال مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے۔موسمیاتی تبدیلی اب مستقبل کا خدشہ نہیں بلکہ پاکستان کے لیے موجودہ بحران ہے۔ کہیں گلیشیائی جھیلیں پھٹنے کے دہانے پر ہیں تو کہیں بے ہنگم مون سون شہروں کو ڈبو رہا ہے جبکہ ہیٹ ویوز زمین، پانی اور زراعت کو خاموشی سے نگل رہی ہیں۔رواں سال گزشتہ برس کے مقابلے میں درجہ حرارت میں ایک ڈگری سینٹی گریڈ کا مجموعی اضافہ ہوا۔ ہیٹ ویوز بھی ہر سال مزید شدت اختیار کر رہی ہیں۔ گزشتہ سال 11 ہیٹ ویوز کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سال بھی موسم کے آثار کچھ اچھے نہیں۔ بڑھتا درجہ حرارت زمین کی نمی ختم کر رہا ہے، زیرِ زمین پانی کی سطح نیچے جا رہی ہے، زرعی زمینیں بنجر ہو رہی ہیں اور غذائی تحفظ کو نئے خطرات لاحق ہیں۔ماہرین کے مطابق گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا میں 53 مقامات ایسے ہیں، جہاں کسی بھی وقت گلیشیائی جھیل پھٹنے کا خطرہ موجود ہے۔ ایسے واقعات صرف سیلاب ہی نہیں لاتے بلکہ لینڈ سلائیڈنگ، سڑکوں کی بندش، سیاحت کی تباہی اور مقامی آبادیوں کے لیے جان و مال کے شدید خطرات بھی پیدا کرتے ہیں۔ بڑھتا درجہ حرارت اور بارشوں کے بدلتے انداز اس خطرے کو مزید بڑھا رہے ہیں۔ رواں سال محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ مون سون کی بارشیں وسطی پنجاب اور جنوبی پنجاب سمیت ملک کے دیگر علاقوں میں ماضی کی نسبت کم ہوں گی تاہم بالائی علاقوں میں مون سون بارشیں معمول کے مطابق ہوں گی۔ درجہ حرارت میں بھی اضافہ ہوگا۔

اپنا تبصرہ لکھیں