تحریر: سراج احمد
اسرائیل میں اقتدار کی جنگ دلچسپ موڑ پر پہنچ گئی ہے نیتن یاہو کے پاس 53 اور حزبِ اختلاف کے پاس 48 نشستیں ہیں، جبکہ عرب جماعتیں 19 نشستوں کے ساتھ فیصلہ کن پوزیشن میں آگئی ہیں۔ حکومت بنانے کے لیے عربوں کی حمایت چاہیے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ دونوں کیمپوں میں ایسی جماعتیں موجود ہیں جو عربوں کے ساتھ اقتدار بانٹنے کو تیار نہیں۔ تو کیا نظریات بدلیں گے، کوئی نیا سیاسی اتحاد بنے گا یا اسرائیل دوبارہ انتخابات کی طرف جائے گا یہاں پر تازہ ترین یہ بات سامنے آئی ہے کہ عرب جماعتوں نے اقتدار میں شامل ہوئے بغیر نیتن یاہو کے خلاف حزب اختلاف کی حمایت کا ارادہ ظاہر کیا ہے تاکہ حزب اختلاف حکومت بنا سکے
اسرائیلی پارلیمان، کنیسٹ، میں کل 120 نشستیں ہیں اور حکومت بنانے کے لیے عموماً 61 ارکان کی حمایت درکار ہوتی ہے۔ 29 اکتوبر تک دستیاب غیر حتمی نتائج کے مطابق کوئی بھی بڑا انتخابی اتحاد واضح اکثریت حاصل نہیں کرسکا۔ نیتن یاہو کا حکومتی بلاک 53 اور گادی آئزن کوٹ کی قیادت میں حزبِ اختلاف کا بلاک 48 نشستوں پر ہے۔ باقی 19 نشستیں عرب جماعتوں کے پاس ہیں۔
نیتن یاہو کا پانچ جماعتی اتحاد مجموعی طور پر 53 نشستیں حاصل کرنے کی پوزیشن میں ہے، یعنی اسے اکثریت کے لیے مزید آٹھ نشستیں درکار ہیں۔ اس اتحاد میں شامل جماعتوں کی نشستیں درج زیل ہیں
بن یامین نیتن یاہو کی جماعت لیکودکی 27 نشستیں،مذہبی سفاردی یہودی جماعت شاسکی 6 نشستیں، انتہائی مذہبی یہودی جماعت متحدہ توراتی یہودیت کی 7 نشستیں، انتہائی دائیں بازو کی جماعت عوتسما یہودیت کی 7 نشستیں اور مشترکہ انتخاب مذہبی صیہونیت اور زہوتکی 6 نشستیں ہیں یہ اتحاد سب سے بڑا حکومتی بلاک ضرور ہے، لیکن اسے حکومت بنانے کے لیے دوسری جماعتوں کی حمایت درکار ہوگی۔
جبکہ دوسری جانب گادی آئزن کوٹ کی قیادت میں حزبِ اختلاف کے 4 جماعتی انتخابی اتحاد کو مجموعی طور پر 48 نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔ جسمیں گادی آئزن کوٹ کی جماعت یاشار کو 21 نشستیں،نفتالی بینیٹ اور یائیر لاپید کا سیاسی اتحاد ،بیاخاد کی 12 نشستیں، یائیر گولان کی بائیں بازو کی جماعت دی ڈیموکریٹس کی 8 نشستیں اور ایوگدور لائبرمین کی قوم پرست اور دائیں بازو کی جماعت اسرائیل بیتینو کی 7 نشستیں شامل ہیں یہ اتحاد نیتن یاہو کو اقتدار سے ہٹانے کی صلاحیت رکھتا ہے، لیکن عرب جماعتوں کی حمایت کے بغیر اس کی نشستیں اکثریت سے بہت کم ہیں۔
عرب جماعتیں اب اصل فیصلہ کن قوت بن چکی ہیں عرب جماعتوں نے مجموعی طور پر 19 نشستیں حاصل کی ہیں۔ ان میں ایک انتخابی اتحاد اور ایک الگ جماعت شامل ہے۔
جوائنٹ لسٹ اتحاد نے 12 نشستیں حاصل کی اس اتحاد میں حداش، تعال اور بلد شامل ہیں۔ حداش عربوں اور یہودیوں پر مشتمل بائیں بازو کی تحریک ہے، تعال عرب شہریوں کے حقوق پر زور دیتی ہے، جبکہ بلد عرب قومی شناخت اور مساوی شہری حقوق کی حامی ہے۔اسی طرح رعام کی 7 نشستیں ہیں منصور عباس کی قیادت میں یہ جماعت عرب شہریوں کے حقوق اور عملی سیاسی تعاون پر زور دیتی ہے۔ اس نے 2021ء میں نفتالی بینیٹ اور یائیر لاپید کی حکومت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا تھا۔اگر دونوں عرب جماعتوں کی تمام نشستیں حزبِ اختلاف کے ساتھ آجائیں تو اس کے 48 ارکان کی تعداد بڑھ کر 67 ہوسکتی ہے۔ یوں عددی اعتبار سے حکومت سازی کا راستہ کھل سکتا ہے، لیکن اصل رکاوٹ سیاسی شرائط اور اتحادی جماعتوں کے تحفظات ہیں۔
اب آتے ہیں کہ نیتن یاہو کا اتحاد عرب جماعتوں سے کیوں گریز کرتا ہے.نیتن یاہو کے حکومتی بلاک میں عرب جماعتوں کے ساتھ تعاون کی مخالفت خاص طور پر عوتسما یہودیت اور مذہبی صیہونیت کی جانب سے سامنے آتی رہی ہے۔ لیکود نے بھی عرب جماعتوں کے ساتھ سیاسی تعاون کے خلاف مہم چلائی ہے۔لیکود پارٹی کی بیرون ملک فنڈنگ کی شکایت پر اسرائیلی بیت شین نے تحقیقت شروع کردی ہے عرب پارٹیوں پر الزام لگایا گیا ہے انہیں قطر اور ترکیہ نے فنڈنگ کی ہے اگر یہ تحقیات سچ ثابت ہوتی ہیں تو اس صورت میں عرب جماعتوں پر پابندی لگ سکتی ہے اور ان نشستوں پر دوبارہ انتخابات ہوسکتے .
دوسری جانب حزبِ اختلاف بھی ایک صفحے پر نہیں ہے حزبِ اختلاف میں بھی عرب جماعتوں کے ساتھ حکومتی شراکت داری پر اختلاف پایا جاتا ہے۔
گادی آئزن کوٹ نے رعام کو اپنی قیادت میں بننے والی حکومت میں شامل کرنے سے انکار کیا ہے۔ جبکہ نفتالی بینیٹ اور یائیر لاپید بھی عرب جماعتوں کو حکومتی اتحاد میں شامل کرنے کے معاملے پر محتاط یا مخالفانہ مؤقف رکھتے ہیں۔یوگدور لائبرمین کی اسرائیل بیتینو عرب جماعتوں کے ساتھ حکومت سازی کی مخالفت کرتی ہے۔اس کے برعکس یائیر گولان کی دی ڈیموکریٹس عرب جماعتوں کے ساتھ تعاون کی حمایت کرتی ہے۔
چنانچہ حزبِ اختلاف کے لیے بھی سوال یہ ہے کہ کیا وہ اپنے اختلافات بھلا کر نیتن یاہو کے خلاف اکٹھے ہوسکتے ہیں
دوسری جانب کیا عرب جماعتوں کو حکومت میں شامل کیے بغیر راستہ نکل سکتا ہےاس کے چند ممکنہ راستے ہیں وسیع قومی حکومت کے لئے نیتن یاہو کسی معتدل دائیں بازو یا حزبِ اختلاف کی جماعت کے ساتھ اتحاد بنا سکتے ہیں۔ تاہم اس کے لیے انہیں اپنے موجودہ انتہائی دائیں بازو کے اتحادیوں کے ساتھ سمجھوتا کرنا پڑسکتا ہے۔ جبکہ حزبِ اختلاف کی اقلیتی حکومت آئزن کوٹ کی قیادت میں حکومت عرب جماعتوں کی حمایت یا عدم مخالفت کے ذریعے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کرسکتی ہے، لیکن اس کے لیے دوسری جماعتوں کے تحفظات دور کرنا ہوں گے۔ارکان کی حمایت حاصل کرنا دونوں بلاک مخالف جماعتوں کے انفرادی ارکان یا چھوٹے گروپوں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ تاہم یہ سیاسی طور پر مشکل راستہ ہے۔
تاہم مؤقف میں تبدیلی سے اقتدار کے حصول کے لیے بعض جماعتیں عرب جماعتوں کے ساتھ براہِ راست اتحاد کے بجائے محدود تعاون، پارلیمانی حمایت یا کسی سمجھوتے پر آمادہ ہوسکتی ہیں۔
یا پھر اسرائیل دوبارہ انتخابات کی طرف جائے گا؟اگر حکومت سازی کی کوششیں ناکام رہیں تو دوبارہ انتخابات کا امکان موجود ہے، لیکن یہ فوری یا لازمی نتیجہ نہیں۔ اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ جماعتوں سے مشاورت کے بعد کسی امیدوار کو حکومت بنانے کی دعوت دیں گے۔ اگر مقررہ مدت اور آئینی طریقۂ کار کے تحت حکومت نہ بن سکی تو نئے انتخابات کا راستہ کھل سکتا ہے۔ دوسری جانب قومی حکومت یا کسی غیر متوقع سیاسی سمجھوتے سے تعطل ختم بھی ہوسکتا ہے۔
اسرائیل کی سیاست میں اب اصل امتحان یہ ہے کہ کیا وہ جماعتیں جو عربوں کے ساتھ اتحاد کی مخالفت کرتی رہی ہیں، اقتدار حاصل کرنے کے لیے اپنا مؤقف نرم کریں گی؟ یا عرب جماعتوں کی حمایت کے بغیر کوئی متبادل اتحاد بنانے کی کوشش کی جائے گی یہ بھی ممکن ہے کہ عرب جماعتیں حکومت میں شامل ہوئے بغیر اپنی حمایت کے بدلے شہری حقوق، بجٹ، بلدیاتی ترقی اور دیگر معاملات پر ضمانتیں طلب کریں۔
اسرائیل کے انتخابی نتائج نے عرب جماعتوں کو محض پارلیمانی نمائندگی نہیں دی بلکہ حکومت سازی میں فیصلہ کن کردار ادا کرنے کا موقع بھی فراہم کیا ہے۔ تاہم 19 نشستوں کا ہونا اور حکومت میں شراکت دار بننا دو الگ باتیں ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اسرائیلی جماعتیں اپنے سیاسی اور نظریاتی اختلافات پر قائم رہتی ہیں، کوئی وسیع اتحاد بناتی ہیں یا حکومت سازی کا تعطل ملک کو دوبارہ انتخابات کی طرف لے جاتا ہے۔