تحریر :انور شاہد
شہید ملت لیاقت علی خان کو 16 اکتوبر 1951کوجہاں شہید کیا گیا تھا اس کے چھپن سال بعد محترمہ بے نظیر بھٹو نے بھی اسی کمپنی باغ میں جام شہادت نوش کیا۔لیاقت علی خاں کے قاتل کا نام سعید اکبر تھا اور اس کا تعلق افغانستان سے تھا تو محترمہ کے قاتل کا نام بلال سعید تھا اور اس کا تعلق وزیرستان سے تھا ۔ لیاقت علی خاں کے قاتل سعید اکبر کو گرفتار کرنے کے بجائے گولیاں مار کر موقع پر ہی ہلاک کردیا گیا تاکہ سازش کا سراغ نہ مل سکےتو محترمہ بے نظیر کے قاتل کو فرار ہونے کا موقع دیا گیا اور قتل کی جائے وقوعہ کی فورا صفائی کردی گئی تاکہ کوئی شہادت باقی نہ رہے ۔ محترمہ کی شہادت کے بارے میں جنرل مشرف نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ان کی اسٹبلشمنٹ کے کچھ خود سر عناصر نے طالبان سے مل کر ممکن ہے یہ سازش کی ہو۔ پروفیسر ڈاکٹر فاروق ببرک زئی کا کہنا ہے کہ لیاقت علی خان کے قتل کی سازش بھی ان کی حکومت کے خود سر عناصر نے تیار کی تھی جن میں غلام محمد اور مشتاق احمد گورمانی کے نام قابل ذکر ہیں جو لیاقت علی خاں سے جان چھڑانا چاہتے تھے ۔ پروفیسر ڈاکٹر فاروق ببرک زئی جو لیاقت علی خاں کے قاتل سعید اکبر کے تیسرے بیٹے ہیں ڈیفنس لینگویج انسٹی ٹیوٹ مونٹرے کیلیفورنیا سے وابستہ ہیں۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار لیاقت علی خاں کی شہادت پر گذشتہ سال شائع ہونے والی اپنی کتاب ’ ۔لیاقت علی کا قتل ۔پاکستان کی ابتدائی تاریخ کا ایک تنقیدی جائزہ ‘ میں کیا ہے ۔ یہ کتاب ان کی اس تحقیق کا حاصل ہے جس میں انہوں نے اپنے والد کے اس واقعہ میں ملوث ہونے کی وجوہات جاننے کے لئے اپنی زندگی کا بڑا حصہ صرف کردیا ۔ اپنے والد کا تعلق افغانستان سے ہونے اور ان کی پاکستان آمد کی ڈرامائی وجوہات پر روشنی ڈالتے ہوئےوہ بتاتے ہیں کہ ان کے دادا سید اکبر ببرک زئی ایک بڑے جنگجو کے طور پر افغانستان کے بادشاہ میر عبدالرحمن کے بااعتماد ساتھیوں میں شامل تھے ۔۔ان کی وفات کے بعد ببرک قبیلے کی سربراہی ان کے بڑے بیٹے مزرک زردان کومنتقل ہوگئی جو سعید اکبر کےبڑے بھائی تھے۔ان کے پاکستان منتقل ہونے کی وجہ 1939 میں شروع ہونے والی دوسری جنگ عظیم بنی جب افغانستان پرظاہر شاہ کی حکومت تھی جسے انگریزوں کی سرپرستی حاصل تھی۔ جنگ کے دوران اگرچہ قبائلی عوام انگریزوں کے خلاف جرمنی کا ساتھ دینا چاہتے تھے لیکن ظاہر شاہ کے لئے کیونکہ انگریزوں کو ناراض کرنا مشکل تھا اس لئے اس نے غیر جانبدار رہنے کو ترجیح دی ۔ مزرک زردان نے البتہ ظاہر شاہ کا ساتھ نہیں دیا اور انگریزوں کے خلاف بغاوت کردی جس سے انگریزوں کے لئے بڑی مشکل پیدا ہوگئی ۔ اس بغاوت کو دبانے کے لئے انگریزوں نے دو بریگیڈ مختص کئے تھے جن سے لڑائی کے دوران مزرک زردان اور ان کے ساتھی وزیرستان کی پہاڑیوں میں مورچہ بند ہوگئے ۔ 1945 میں جب جنگ عظیم ختم ہوئی اور جرمنی ہار گیا تو تو مزرک نے بھی ہتھیار ڈال دیے جس پر انہیں اور ان کے خاندان کو وزیر ستان میں نظر بند کردیا گیا اوران کے اخراجات پورے کرنے کے لئے خاطر خواہ ماہانہ وظیفہ مقرر کردیا گیا ۔۔ ہندوستان کی تقسیم کے بعد وزیرستان کیونکہ پاکستان کی حدود میں آگیا تھا اس لئے برطانوی حکومت کی ذمہ داریاں حکومت پاکستان کو منتقل ہوگئیں جس نے انہیں وزیرستان کے بجائے ایبٹ آباد منتقل کردیا گیا جہاں نظر بندی بھی جاری رہی اور ماہانہ وظیفہ بھی۔ پروفیسرفاروق کا کہنا ہے کہ اگر ان کا قیام ایبٹ باد کے بجائے لاہور کراچی یا کہیں اور ہوتا تو ان کے والد کبھی اس واقعہ میں ملوث نہ ہوتے ۔۔اس کی تاویل وہ یہ پیش کرتے ہیں کہ کشمیر میں جہاد کے لئے جانے والے قبائلی ایبٹ آباد کے راستے سے آیا جایا کرتے تھے اور ان میں کئی جاننے والے ان کے ہاں ملنے آتے تھے ۔ان کے والد نے وہ جرمن پستول بھی ایک قبائلی سے ہی خریدا تھا جو بعد میں واردات قتل میں استعمال ہوا ۔ان ملاقاتوں سے سید اکبر کو کشمیر کے معاملات میں دلچسپی پیدا ہونا شروع ہوگئی تھی ۔وہ پڑھا لکھا نہیں تھا لیکن ان میل ملاقاتوں کے نتیجے میں اس میں مذہبی رحجان کے علاوہ علامہ اقبال کے کلام میں بھی پیدا ہوگئی ۔۔یہی ملاقاتیں جو وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی چلی گئیں اسے لیاقت علی خاں کے قتل کی سازش کے لئے استعمال کئے جانے کا باعث بنیں ۔سازش کے اس دعوے کو اس بات سے بھی تقویت ملتی ہے کہ سعید اکبر کو ماردئے جانے کے بعد اس کی جیب سے دو ہزار روپے برآمد ہوئے تھے جس کے نوٹوں کے نمبر گھرسے براآمد ہونے والی دس ہزار روپے کی رقم کے نمبروں سے ملتے تھے ۔اس زمانے کے لحاظ سے یہ بہت بڑی رقم تھی جو ظاہر ہے اسے استعمال کرنے والے بارسوخ عوامل نے فراہم کی تھی۔لیاقت علی خاں کو جس دن کمپنی باغ میں جلسہ عام سے خطاب کرنا تھا وزیر خزانہ غلام محمد اور وزیر امور کشمیر مشتاق احمد گورمانی راولپنڈی میں موجود تھے ۔ پروٹوکول کے مطابق انہیں جلسے میں موجود ہونا چاہئیے تھا لیکن وہ نہیں آئے البتہ گولی لگنے کی خبر ملتے ہی گورمانی فورا وہاں پہنچ گئے اور لیاقت علی خان کو نیم مردہ حالت میں اپنی گاڑی میں ہسپتال لے گئے جہاں ان کی وفات کی تصدیق ہوتے ہی وہ وزیر خزانہ غلام محمد کی طرف چلے گئے اس وقت گورنر جنزل خواجہ ناظم الدین نتھیا گلی میں آرام کررہے تھے جنہیں وزیر اعظم بنا دیا گیا ، غلام محمد نے گورنر جنرل کا عہدہ سنبھال لیا اور مشتاق احمد گورمانی وزیر داخلہ بن گئے ۔۔ پروفیسر فاروق ببرک کا کہنا ہے کہ انہوں نےیہ کتاب عوام کو حقائق سے آگاہ کرنے کی نیت سے لکھی ہے اور اگر انہیں اس سلسلے میں پاکستان کے اندر رہ کر تحقیق کی سہولت فراہم کی جائے تو وہ حقائق کو حتمی ثبوتوں کے ساتھ منظر عام پر لا سکتے ہیں