سرکاری ریکارڈ کے مطابق 2024 میں واٹس ایپ، فیس بک، مالیاتی فراڈ اور آن لائن دھوکہ دہی سے متعلق3 لاکھ 80 ہزار سے زائد شکایات موصول ہوئیں ان میں سے 63 فیصد شکایات پنجاب سے جبکہ باقی 37 فیصد دیگر صوبوں سے آئیں۔ فروری 2026 تک کے اعداد و شمار کے مطابق ہر ماہ سوشل میڈیا ہیکنگ اور فراڈ سے متعلق 500 سے 700 شکایات موصول ہو رہی ہیں حکام کے مطابق صرف پنجاب میں روزانہ دو ہزار سے زائد فون کالز اور ای میلز ہیکنگ یا سائبر فراڈ سے متعلق مدد کے لیے موصول ہو رہی ہیں۔2025 میں ادارے کو دو لاکھ 54 ہزار 930 شکایات موصول ہوئیں شہریوں کی جانب سے فون کالز یا ای میلز کے ذریعے ہونیوالی مبینہ دھوکہ دہی کی اطلاع دینے یا معلومات حاصل کرنے کیلیے پانچ لاکھ سے زائد فون کالز بھی موصول ہوئیں۔ مالیاتی فراڈ سے متعلق 85 ہزار سے زائد جبکہ براہِ راست ہیکنگ کے واقعات سے متعلق 25 ہزار سے زیادہ شکایات ریکارڈ کی گئیں۔ ذرائع کے مطابق ایف آئی اے کے فیس بک، واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ساتھ باضابطہ معاہدے نہیں جس سے تحقیقات میں مزید مشکلات پیش آتی ہیں جبکہ این سی سی آئی اے کے پاس جدید آلات اور اپ ڈیٹڈ نظام موجود نہیں جس کے باعث ہیکرز کا سراغ لگانا مشکل ہے۔